سرانجام ٹرین پہنچ جاتی ہے ،قومی ترانے کی آواز اسٹیشن میں گونج پڑتی ہے اور فضا خاموش حماسی ماحول سے بھر جاتی ہےمیناب کے 550 افراد پر مشتمل کاروان آپہنچتا ہے اور یہ اس شجرہ طیبہ کے لواحقین ہیں جن کے جگر پارے ماہ رمضان میں انسانیت کے بدترین دشمن کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔
ٹرین کے دروازے کھلتےہی ایسا لگ رہا تھا جیسے جنوب کے جغرافیہ کا ایک ٹکڑا مشہد سے آملا ہے سیاہ لباس میں ملبوس مرد اور خواتین جو اپنے مخصوص عربی اور جنوبی چادروں میں غم کا پہاڑ چھپائے ایک ایک کر کے اسٹیشن کی جانب بڑھ رہے تھے ۔
اس ہجوم میں ایک جوان جوڑا جو کندھے سے کندھا ملا کر لڑکھڑاتے ہوئے قدم بڑھا رہا تھا دونوں نے مل کر ایک تصویر اپنے ہاتھوں میں تھام رکھی تھی یہ تصویر ان کے اکلوتے بیٹے کی تھی فقط خدا جانتا ہے انہوں نے اپنے اکلوتے فرزند کے لئے کیا کیا خواب دیکھ رکھے تھے ۔
تھوڑی دور پر ایک بوڑھی خاتون غمزدہ چہرے کے ساتھ اپنے پوتے کی تصویر گلے لگائے ہوئے ہے،اس کے جھریوں والے ہاتھ کھجور کی جڑوں ک پرانی ٹہنی کی طرح لگ رہے تھے جس نے تصویر کو جکڑ رکھا تھا یہ تصویر ہی اس کا پورا وجود لگ رہی تھی۔
میں ایک والدین کے پاس پہنچتا ہوں جو اپنی دودھ پیتی بیٹی کو گود میں اٹھائے اور ایک تصویر کو سینے سے لگائے چل رہے تھے ،دودھ پیتی بچی ہر چیز سے بے خبر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی وہ نہیں جانتی کہ بھائی کا دکھ کیا ہوتا ہے ۔
اس بھیڑ میں میری نظر ایک چھوٹی سی بچی پر پڑی جس کے نازک ہاتھوں پر زخموں کے نشانات نے عجیب نقش بنا رکھے تھے ،ان کے والد نے بتایا کہ یہ میری بیٹی بھی اسی اسکول کی جانباز زخمی طالبہ ہے، میں اس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیتا ہوں تاکہ اس کے قد کے برابر ہو جاؤں اور اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو دیکھ کر کہتا ہوں تیرے خوبصورت ہاتھوں پر قربان جاؤں۔
عود اور گلاب کی خوشبو میں یہ کاروان چل پڑا ،اس دوران میں نے ایک ماں کو دیکھا جو اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہے اور اپنے بچے کی تصویر والا فریم سر سے اوپر اٹھائے ہوئے ہے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ امام رضا(ع) سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی یہ میری ساری آبرو ہے یہی میرا فخر ہے یہی میرا سب کچھ ہے جو میں آپ کے لئے لائی ہوں۔
اسٹیشن سے باہر نکلی تو کھلی فضا میں ایک آواز گونجتی ہے جسے سن کر میرا دل تڑپ گیا ،،،،ان لوگوں کے پاس امام رضا (ع) ہے ،،ان لوگوں کے پاس امام حسین(ع) ہے ،،، ان لوگوں کے پاس کربلا ہے ۔۔۔
میناب کی خوشبو آج رات مشہد الرضا(ع) میں پھیلی ہوئی ہے ،میں اپنے اشکوں کو سنبھالتے ہوئے کہتا ہوں ؛؛؛ان لوگوں کے پاس امام رضا(ع) ہے اور امام رضا(ع) اس ملک کا اہم ترین اثاثہ ہیں۔
مهلا دانشمند